Channel Avatar

Gehri Baaten @UC61MP1pmO23ykc5dYQK1d8w@youtube.com

2.2K subscribers - no pronouns :c

You can get islamic and all good contents here!


Welcoem to posts!!

in the future - u will be able to do some more stuff here,,,!! like pat catgirl- i mean um yeah... for now u can only see others's posts :c

Gehri Baaten
Posted 3 months ago

بیٹی اور خون کے رشتے لازمی پڑھیے
باپ دو دن سے بیٹی کے نمبر پر ڈسکہ کے نواحی گاؤں کال کر رہا تھا مگر نمبر بند تھا ، وہ گھبرا کر بیٹی کے سسرال چلا آیا اور پوچھا زارا کہاں ہے ؟ فون کیوں بند ہے اس کا ، جبکہ زارا کا دو سال کا بیٹا گھر میں موجود تھا ، ساس اور نندوں نے بتایا دو دن پہلے رات کو کسی آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ، موبائل بھی ساتھ لے گئی ۔ ہم تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ، خاموشی سے تلاش کررہے ہیں ۔۔۔
باپ کو یقین نہ آیا ، چار سال پہلے اس نے بہت چاؤ سے اس کا رشتہ اس کی خالہ صغری کے بیٹے قدیر سے کیا ، اور وہ دونوں بہت خوش تھے ، ہاں سگی خالہ اس سے اکثر نالاں رہتی تھی مگر وہ پھر بھی بیٹی کو نباہ اور صبر کی تلقین کرتا رہا ۔ اس نے تلاش گمشدگی کے لیے پولیس کی مدد لی ، پولیس نے سسرالیوں کے بیان لیے ، زارا کی ساس اور نندوں کو شامل تفتیش کیا گیا ، ہر ایک کے بیان میں تضاد موجود تھا ، جس پر پولیس نے ان کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ زارا بھاگی نہیں بلکہ 11 نومبر کی رات انہوں اس کو مار کر پھینک دیا تھا۔ اور اس کے شوہر کو بھی یہی بتایا کہ وہ کسی سے رابطے میں تھی اور گھر سے نکل گئی ، جبکہ زارا سات ماہ کی حاملہ تھی ، اس کے ساتھ ننھی جان بھی ماری گئی ۔

جھگڑا کیا تھا؟ وہی ساس بہو کی ازلی چپقلش اور نند بھابی کا بیر ۔۔۔ زارا کی پانچ نندیں تھیں اور قدیر ان کا اکلوتا بھائی ۔۔ اور انہوں نے خود زارا کا رشتہ مانگا اور اپنے ہاتھوں سے رخصت کرکے گھر لائیں ۔ جھگڑا پیسے کا تھا ، ان کا خیال تھا ان کا بیٹا سارا خرچ بہو کے ہاتھ رکھتا ہے جبکہ اسے سب کچھ ماں بہنوں کو دینا چاہیے ، وہ خود زارا کو دیں ۔ انہی جھگڑوں سے تنگ آ کر قدیر اسے اٹلی بھی لے گیا اور کچھ ماہ پہلے سسرال چھوڑ گیا ۔ اس بار ساس اور نندوں نے سوچا کہ زارا کو واپس ہی نہ جانے دیا جائے اور قدیر کی ساری کمائی ہمیں ملے ، پلان کے تحت لاہور سے کسی کو بلایا ، فجر سے کچھ دیر پہلے سوئی ہوئی زارا کے منہ پر تکیہ رکھ کر سانس بند کی اور موت کے حوالے کردیا ۔۔۔ اب مسئلہ لاش کا تھا کہ وہ کہاں کریں ۔۔ اور شناخت کیسے چھپائیں تو سر کو دھڑ سے الگ کرکے چولہے پر جلایا گیا تاکہ نین نقش مسخ ہوجائیں ، پھر جسم کاٹ کر دو الگ الگ بوریوں میں ڈالا ، ایک بوری نہر میں اور ایک دور جھاڑیوں میں پھینک دی ۔ پولیس نے ان کی نشان دہی پر مختلف جگہوں سے جسم کی باقیات برآمد کر لیں ۔
لوگ کہتے ہیں رشتہ اپنوں میں کریں ۔۔ اپنا مارے گا بھی تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔ یہاں تو چھاؤں میں بھی نہیں ڈالا گیا ۔۔۔ اور پھر اپنا ہو ۔۔ تو مارے ہی کیوں ؟؟
آصفہ عنبرین قاضی
Copied!

1 - 1

Gehri Baaten
Posted 4 months ago

جب 1983 میں یہ غَلغَلہ اُٹھا کہ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان نِیل آرمسٹرانگ نے قاہرہ میں اَذان کی آواز سن کر اسلام قبول کر لیا ہے کہ یہی آواز اُنھوں نے چاند پر بھی سُنی تھی، تو پوری امتِ مُسَلمَہ میں خُوشی کی لہر دوڑ گئی۔ حتی کہ وُہ گروہ بھی سرشار تھے جَو انسان کی چاند تک رسائی کو خلاف مذہب خیال کرتے تھے۔

اسی طوفان بدتمیزی کے دوران ہندوستان کے مولانا وحید الدین خان نے تجزیے یا تبصرے کرنے یا شادیانے بجانے کی بجائے ایک شرعی اور راست طرز عمل اختیار کیا۔ جی ہاں، انھوں نے نِیل آرمسٹرانگ کو خط لکھ کر خُود ہی پوچھ لیا کہ جناب، کیا یہ واقعہ رونما ہوا تھا؟

نِیل آرمسٹرانگ نے حق کی تلاش میں نکلے اس محقق کو جواب دینا ضروری جانا، جوابی خط روانہ کیا، اس پر دستخط ثبت کیے، ان خبروں کو خلاف واقعہ ٹھہرایا، اور مولانا کا شکریہ ادا کیا۔

*یہ سَادہ سَا عَمل، جَو مولانا نے انجام دیا، دراصل ہمارے لئے ایک بنیادی دینی تقاضا ہے کہ کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کئیے آگے نہ بڑھائیں۔ اللہ ہمیں اندھے رویوں کے شر سے بچائے۔ آمین*
Copied!

3 - 1

Gehri Baaten
Posted 5 months ago

‏یہ امتحانی پرچہ پاکستان بننے سے پہلے کا ہے اور ہمارے سامنے سوچنے کے کئی در وا کرتا ہے۔
۔ پرچے میں پوچھے گئے تقریباً تمام سوالات Higher order thinking سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہی طالب علم جواب دے سکتا ہے جو موازنہ کرنا ، تجزیہ کرنا ،جانچ کرنا اور تخلیق کرنا جانتا ہو۔ محض رٹے کی بنیاد پر اس پرچے کو حل کرنا ممکن نہیں۔

وہ جو ہم کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں کا پانچ پڑھا آج کے ایم اے کے برابر ہے یہ پرچہ دیکھ کر سمجھ میں آتا ہے کہ محاورہ کیسے درست ہے۔

#copied

4 - 2

Gehri Baaten
Posted 5 months ago

مرد کے صرف پیدا ہونے کی خوشی ہوتی ہے. اس کے بعد وہ ساری زندگی اپنے رشتوں کو نبھانے میں گزار دیتا ہے!

2 - 1

Gehri Baaten
Posted 6 months ago

ناروے یورپ کا ایک انتہائی خوبصورت ملک ھے۔ اگر آپ کبھی وھاں جائیں تو آپ کو عموماً یہ منظر نظر آئے گا۔۔۔۔۔

ایک ریستوراں ھے۔
ایک عورت اس کے کیش کاؤنٹر پر آتی ھے اور کہتی ھے۔ "5 کافی، 1 معطلی"۔ پھر وہ پانچ کافیوں کی ادائیگی کرتی ھے اور چار کپ کافی لے جاتی ھے...

کچھ وقت کے بعد۔۔۔۔
ایک اور آدمی آتا ھے اور کہتا ھے- "4 لنچ، 2 معطلی"! وہ چار لنچ کے لیے ادائیگی کرتا ھے۔
اور دوپہر کے کھانے کے دو پیکٹ اٹھا کر لے جاتا ہے...

پھر ایک اور آتا ھے... آرڈرز - "10 کافی، 6 معطلی"!! وہ دس کے لیے ادا کرتا ھے، چار کافی لیتا ھے...

کچھ وقت کے بعد....
پھٹے کپڑوں میں ایک بوڑھا آدمی کاؤنٹر پر آتا ہے اور پوچھتا ہے- "کوئی معطل کافی؟" جواب ملتا ھے- "ھاں!!" اور اسے ایک کپ گرم کافی دے دیتی ھے...

کچھ دیر بعد ایک اور انتہائ کمزور سا آدمی اندر آتا ہے اور پوچھتا ہے۔ "کوئی معطلی لنچ؟" تو کاؤنٹر پر موجود شخص گرم کھانے کا پارسل اور پانی کی بوتل دیتا ھے... اور یہ سلسلہ...دن بھر جاری رھتا ھے۔

اس کا مطلب ھے کسی نامعلوم غریب ضرورت مند کی مدد کرنا اپنے آپ کو "شناخت" کیے بغیر اور کسی کا چہرہ بھی "جانتے" بغیر...

یہ ناروے کے شہریوں کی روایت ہے!!!

اور ایک ھمارا ملک ھے جہاں ایک درجن لوگ ایک مریض کو ایک کیلا دیتے ھیں اور اس کی تصویریں بڑی بے شرمی سے کھینچتے ھیں جیسے وہ دنیا کے سب سے بڑے ڈونرز ھوں۔

ایک ھمارے لیڈر ہیں۔ ھمارے پیسوں سے ھی لوگوں میں راشن تقسیم کرتے ھیں اور تصویر کھنچوا کر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔ آٹے کے تھیلوں پہ اپنی تصویر بنوا کر کس ڈھٹائی سے تقسیم کم اور بیچا زیادہ جارھا ھے ، سمجھ نہیں آتا۔

ہم ایک زندہ قوم کب بنیں گے ؟؟؟ شاید ہماری زندگی میں تو بہت مشکل ھے۔۔۔۔

Copied....

4 - 0

Gehri Baaten
Posted 8 months ago

*کتوں کے لیے قربانی نا کیجئے خدارا۔*
*یہ پوسٹ ہر مسلمان کے لیے پڑھنا لازم ھے۔*

السلام و علیکم!!!!

یہ تحریر کہیں سے پڑھی اور اس قدر تکلیف ھوئی کہ نم پلکوں سے آپ سے شئیر کرنے کو پوسٹ کر دی۔

یہ واقعہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان کا ھے۔
ایک باپ جو کہ قربانی نہیں کر پا رہا اس کی روداد سنیے۔

بابا.... بابا .... ہمیں بھی گوشت ملے گا نا؟

میں نے کہا: ہاں ہاں کیوں نہیں بِالکُل ملے گا۔۔

لیکن بابا ....پچھلی عید پر تو کسی نے بھی ہمیں گوشت نہیں دیا تھا، اب تو پورا سال ہو گیا ھے گوشت دیکھے ہوئے بھی۔۔۔

میں نے بڑے پیار سے سمجھایا: بیٹا اللہ نے ہمیں بھوکا تو نہیں رکھا، میری پیاری بیٹی، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیۓ۔۔
میری بیٹی پھر بولنے لگی۔۔
ساتھ والے انکل قربانی کے لئے بڑا جانور لے کر آئے ہیں، اور سامنے والے چاچا اقبال بھی تو بکرا لے کر آئے ہیں۔

میں دل میں سوچ رہا تھا کہ ہم غریبوں کے لیے ہی تو قربانی کا گوشت ہوتا ہے، امیر لوگ تو سارا سال گوشت ہی کھاتے ہیں،

یہی سوچتے ہوئے میں عید کی نماز کیلے مسجد کی طرف چل پڑا ۔ وہاں بھی مولوی صاحب بیان فرما رہے ہیں کہ قربانی میں غریب مسکین لوگوں کونہیں بھولنا چاہئے۔۔
ان کے بہت حقوق ہوتے ہیں۔۔۔۔

خیر میں بھی نماز ادا کر کے گھر پھنچ گیا، کوئی گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد میری بیٹی بولی۔۔

بابا ابھی تک گوشت نہیں آیا، بڑی بہن رافیہ بولی۔ چپ ہو جاٶ شازی بابا کو تنگ نہ کرو۔ میں چپ چاپ دونوں کی باتیں سنتا رہا اور نظر انداز کرتا رہا۔۔
کافی دیر کے بعد بھی جب کہیں سے گوشت نہیں آیا تو شازیہ کی ماں بولی۔
سنیۓ میں نے تو پیاز ٹماٹر بھی کاٹ دیئے ہیں۔ لیکن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا، کہیں بھول تو نہیں گئے ہماری طرف گوشت بجھوانا۔۔۔۔
آپ خود جا کر مانگ لائیں۔

میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کیا عجیب بات کر رہی ہے۔
میں نے نرمی سے کہا۔۔ دیکھو شازیہ کی ماں۔۔۔۔ تمہیں تو پتہ ھے آج تک ہم نے کبھی کسی سے مانگا نہیں، اللہ کوئی نہ کوئی سبب پیدا کرے گا۔۔

دوپہر گزرنے کے بعد شازیہ کے بار بار اصرار پر پہلے دوسری گلی میں ایک جاننے والے ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے، بیٹی کا مایوسی سے بھرا چہرہ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
اس لئیے مجبوراً اس کو ساتھ لے کر چل پڑا۔۔۔

ڈاکٹر صاحب دروازے پر آئے تو میں بولا۔۔

ڈاکٹر صاحب میں آپ کاپڑوسی ہوں کیا قربانی کا گوشت مل سکتا ہے؟
یہ سننا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کا رنگ لال پیلا ہونے لگا، اور حقارت سے بولے پتہ نہیں کہاں کہاں سے آ جاتے ہیں گوشت مانگنے، تڑاخ سے دروازہ بند کر دیا۔
توہین کے احساس سے میری آنکھوں میں آنسو آ گۓ۔۔
لیکن بیٹی کا دل نہ دکھے، آنسووں کو زبردستی پلکوں میں روکنے کی کوشش کرنے لگا۔۔

آخری امید اقبال چاچا ۔۔ بو جھل قدموں سے چل پڑا۔۔ ان کے سامنے بھی بیٹی کی خاطر گوشت کیلے دست سوال۔

اقبال چاچا نے گوشت کا سن کر عجیب سی نظروں سے دیکھا اور چلے گئے۔
تھوڑی دیر بعد باھر آئے تو شاپر دے کر جلدی سے اندر چلۓ گۓ۔
جیسے میں نے گوشت مانگ کر گناہ کر دیا ہو۔۔
گھر پہنچ کر دیکھا تو صرف ہڈیاں اور چربی۔۔

خاموشی سے اٹھ کر کمرے میں چلے آیا اور بے آواز آنسو بہتے جا رہے تھے۔
بیوی آئی اور بولی کوئی بات نہیں۔۔ آپ غمگین نہ ہوں۔ میں چٹنی بنا لیتی ہوں۔

تھوڑی دیر بعد شازیہ کمرے میں آئی۔
اور بولی بابا
ہمیں گوشت نہںں کھانا۔ میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔۔
لیکن میں سمجھ گیا کہ بیٹی باپ کو دلاسہ دے رہی ہے۔۔

بس یہ سننا تھا کہ میری آنکھوں سے آنسو گرنے لگے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا
لیکن رونے والا میں اکیلا نہیں تھا۔۔
دونوں بچیاں اور بیوی بھی آنسو بہا رہی تھی۔
اتنے میں پڑوس والے اکرم کی آواز آئی۔۔
جو سبزی کی ریڑھی لگاتا تھا۔۔
آزاد بھائی،
دروازہ کھولو،
دروازہ کھولا۔۔
تو اکرم نے تین چار کلو گوشت کا شاپر پکڑا دیا،
اور بولا،
گاٶں سے چھوٹا بھائی لایا ہے۔
اتنا ہم اکیلے نہیں کھا سکتے۔
یہ تم بھی کھا لینا
خوشی اور تشکر کے احساس سے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اور اکرم کے لیۓ دل سے دعا نکلنے لگی۔
گوشت کھا کر ابھی فارغ ھوۓ ہی تھے کہ بہت زور کا طوفان آیا۔
بارش شروع ہو گئی۔ اسکے ساتھ ہی بجلی چلی گئی۔
دوسرے دن بھی بجلی نہی آئی۔
پتہ کیا تو معلوم ہوا ٹرانسفارمر جل گیا۔

تیسرے دن میری بیٹی شازیہ اور میں باہر آئے تو دیکھا کہ،
اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب بہت سا گوشت باہر پھینک رہے تھے۔
جو بجلی نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہو چکا تھا۔
اور اس پر کُتے جھپٹ رہے تھے۔
شازیہ بولی،
بابا۔
کیا کُتوں کے لیۓ قربانی کی تھی؟
وہ شازیہ کا چہرہ دیکھتے رہ گئے۔

اقبال چاچا اور ڈاکٹر صاحب نے یہ سُن کر گردن جھکا لی۔

یہ صِرف تحریر ھی نہیں، گذشتہ چند سالوں میں قربانی کے موقع پر آنکھوں دیکھا حال ہے۔
خدارا احساس کریں غریب اور مسکین لوگوں کا جو آپ کے آس پاس ہی رہتے ہیں۔
*کاپی۔۔۔۔*

6 - 1

Gehri Baaten
Posted 8 months ago

غزہ کا ایک بچہ "محمد عبد القادر الحسينی" شہید ہوتا ہے اور شہادت سے پہلے ایک وصیت لکھ کر چھوڑتا ہے۔۔۔اس وصیت کا ایک ایک لفظ ایٹم بم ہے اگر دل میں ایمان اور احساس باقی ہو۔۔۔
شہید کی وصیت:
" اگر میں اس جنگ میں شہید ہوجاوں اور چلا جاوں تو میں عرب (اور مسلم) حکمرانوں کو ہرگز معاف نہیں کروں گا جنہوں نے ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔

ہم نے بہت مشکل دن گزارے، بغیر کھانے پینے اور محاصرے میں۔۔۔کم عمری کے باوجود میرے بال سفید ہوگئے۔۔۔۔

اللہ تمہیں معاف نہ فرمائے، تم سے درگزر نہ فرمائے،
اللہ کی قسم! میں سات زمینوں اور آسمانوں کے خالق سے تمہاری شکایت کروں گا۔۔۔

میرں ماں! مجھے معاف کرنا، میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں، میری جدائی پر غم نہ کرنا۔۔۔۔

(تمام عرب عوام کے نام لیتے ہوئے لکھا کہ)
"غزہ تمہارے پاس امانت ہے،غزہ کو اپنے حال پر نہ چھوڑنا۔۔۔۔ غزہ کو نہ بھولنا، میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور اسکی وصیت کرتا ہوں۔۔"
Copied!

7 - 2

Gehri Baaten
Posted 8 months ago

Dr Abdul Qadeer Khan sb hum sharminda hain

8 - 1

Gehri Baaten
Posted 10 months ago

یہ حالات ہوتے ہیں جادو زدہ کے😡

◽ وہ اپنی نقل و حرکت، اپنے جینے کے فیصلے، اور یہاں تک کہ سانس لینے میں بھی محدود ہو جاتا ہے۔
◽وہ ایک مردہ شخص کی طرح جیتا ہے، جیسے روح کے بغیر زندگی
◽ ذائقہ کے بغیر اور آس امید کے بغیر
◽ وہ ایسے کام کرتا ہے جو اس کے قابو سے باہر ہیں۔
👇
◽ اور آپ کو وہ شخص ملے گا جو اس تکلیف دہ حالت سے گزرتے ہوئے آپکو دیکھ کر خوش ہوتا ہے خبیث جادو کروانے والا
◽وہ اپنے کروائے جادو کو اپنے شکار کے جسم میں پھیلتا دیکھ کر اور اس کی حالت کو خراب اور پریشان ہوتے دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہے

لیکن صبر کرو۔

حالات بدل جائیں گے)

يوم لا ينفع مال ولا بنون
◽ وہ دن جب نہ مال کام آئے گا نہ اولاد
اے ظالم تو مجبوری سے روئے گا اور تجھے امید ہے کہ جادو زدہ تجھے معاف کر دے گا۔؟
جادو زدہ
اور تُو خوشی سے روئے گا، اے مصیبت زدہ، اُس انعام اور صلہ کی وجہ سے جسکا تجھے انتظار ہے۔
*✒️ کیا آپ کو لگتا ہے کہ دنیا ہمیشہ قائم رہے گی؟
نہیں، خدا کی قسم، یہ فانی ہے۔
چاہے آپ کتنی ہی زندگی گزاریں، آپ مریں گے اور اللہ کے سامنے آپ کو جوابدہ ہونا ہو گا۔
اور جان لیں کہ چاہے آپ کچھ بھی کریں، جدوجہد کریں، راستے میں کانٹے بچھائیں منصوبہ بنائیں یا دھوکہ دیں،
آپ خدا کی تقدیر کو نہیں بدلیں سکیں گے جو اس مصیبت زدہ شخص پر لکھی گئی ہے، اسے اس کے گناہوں سے پاک کرنے اور اسے جنت کے درجات تک بلند کرنے کے لیے، ان
شاء اللہ۔
ماشاء الله كان وما لم يشأ لم يكن
(جو خدا نے چاہا وہ ہوا اور جو نہ چاہا وہ نہیں ہوا)

(وما هم بضارين به من أحد إلا بإذن الله)
(اور خدا کی اجازت کے بغیر ان کو اس سے کسی کو نقصان نہیں پہنچتا۔)

اے ظالم، جادوگر اور کافر خدا سے ڈرو
☝️
اے مظلوم (جادو زدہ )صبر کرو اور خوشخبری ہے آپکے خدا کی طرف سے راحت کی ۔
🤲
(میں خدا سے، جو سب سے زیادہ سخی، عظیم عرش کا مالک ہے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہر مصیبت زدہ اور جادو زدہ کو شفا دے اور ہر ظالم سے بدلہ لے۔)

اے جادوگر 🫵
خدا نے آپ کو تقسیم کر دیا ہے، آپ کے دماغ کو مشغول کر دیا ہے، آپ کی بینائی کو اندھا کر دیا ہے، اور آپ کے جادو کو باطل کر دیا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اے اللہ ہر سحر زدہ شخص کے جادو کو دور فرما۔
اللہ پاک
جادوگروں کے شر سے بچائے اور ہر مظلوم کو سلامت رکھے آمین یارب العالمین 🤲😥
Copied!

1 - 1

Gehri Baaten
Posted 10 months ago

10 - 1